Mirza Ghalib Poetry (Koi Umeed Bar Nahi Aati)(کوئی امید بر نہیں آتی)
مرزا اسد اللہ بیگ خان (27 دسمبر 1797 - 15 فروری 1869)، جسے عام طور پر مرزا غالب کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک ہندوستانی شاعر تھا۔ بڑے پیمانے پر اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے فارسی میں بھی نمایاں کام کیا۔ غالب کی شاعری اکثر وجودی جدوجہد، دکھوں اور سماجی و سیاسی خلفشار، خاص طور پر مغلیہ سلطنت کے زوال کا ذکر کرتی ہے۔ اس نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ غربت میں گزارا۔انہوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں لکھا۔ اگرچہ ان کا فارسی دیوان (کام کا باڈی) ان کے اردو دیوان سے کم از کم پانچ گنا لمبا ہے، لیکن ان کی شہرت اردو میں ان کی شاعری پر ہے۔ آج، غالب نہ صرف
برصغیر پاک و ہند میں بلکہ دنیا بھر کے ہندوستانی باشندوں میں بھی مقبول ہیں۔

کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی
داغ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی
~منیب اللہ
Tags
Urdu Poetry