رولایا نہ کر اے زندگی مجھے
چپ کرانے والا اب کوئی نہیں
آنکھ سے گرتا آنسو بتا رہا ہے
بہہ رہی ہے قطرہ قطرہ محبت تیری
جن کے اپنے بچھڑے ہوں ان کو سکون سے کیا مطلب
ان کی آنکھوں میں نیند نہیں صرف آنسو آیا کرتے ہیں
مت بہا آنسو بے قدروں کے لیے
جو قدر کرتے ہیں وہ کبھی رونے نہیں دیتے
میری آنکھ میں ایک آنسو جو نہیں دیکھ پاتا تھا
آج وہی میرے بہتے ہوئے آنسووں کا سبب ہے
اک روز کا صدمہ ہو تو رو لیں اے دل
ہم کو ہر روز کے صدمات نے رونے نہ دیا
بے درد زمانے کا بہانا سا بنا کر
ہم ٹوٹ کے روتے ہیں تیری یاد میں اکثر
ظلم کرتی ہیں تیری یادیں مجھ پر قسم سے
سوجاؤ تو اٹھا دیتی ہیں جاگ جاؤ تو رولا دیتی ہیں
ہر حال میں ہنسنے کا ہنر پاس تھا جن کے
وہ رونے لگے ہیں تو کوئی بات تو ہو گی
مزا برسات کا لینا ہے تو ان پلکوں کے نیچے آ بیٹھو
وہ برسوں میں برستی ہے یہ برسوں سے برس رہی ہے










