ہم بھی دنیا میں امیر ہوتے
اگر ہمارے آنسو کی کوئی قیمت ہوت
آنسوں کی ضمانت بھی جہاں کام نہ آئی
وہ شخص لفظوں کا یقین کیا خاک کرے گا؟
کیا تھا وعدہ ہم نے کسی سے کہ اب نہیں روئیں گے
لگایا جب سینےتو آنسو نکل پڑے
نیند میں بھی گرتے ہیں آنکھ سے آنسو
تم خواب میں بھی میرا ہاتھ چھوڑ دیتے ہو
تم تو لکھتے رہے میری آنکھوں پہ غزلیں
تم نے کبھی پوچھا نہیں کے روتے کیوں ہو
کاش کوئی ہوتا جو ہمارے آنسوؤں کا بھرم رکھتا
یہاں تو ہر شخص نے رولانے کی قسم کھا رکھی ہے
پانی سے بھری آنکھیں لے کر مجھے گھورتا رہا
وہ آئینے میں شخص پریشان بہت تھا
آنسو میرے تھم جائیں تو پھر شوق سے جانا
ایسے میں کہاں جاؤ گے برسات بہت ہے
تجھے بھلانا نہیں ممکن اس کا تقاضا نہ کیا کر
آنکھیں اندھی بھی ہو جائیں تو آنسو رکا نہیں کرتے
چلے آئے ہیں آنکھوں میں آنسو کسی کا عکس لے کر
یہ آنسو آج پھر کوئی تماشہ چاہتے ہیں









