میں خود کو بھی کب میسر ہو
بے سبب ہے تیرا خفا ہونا
رات بھر جاگتے ہیں ہم کچھ ایسے لوگوں کی خاطر”
“جنہیں کبھی دن کے اُجالوں میں بھی ہماری یاد نہیں آتی
آج پھر اچھی گزرے گی رات
آج پھر ابتدا درد سےہوئی ہے
سحر ہوئی تو میرے گھر کو راکھ کر دے گا
وہ اک چراغ جسے رات بھر بچایا ہے
نیند والے سمجھ نہ پائیں گے
رات بھر جاگنے والوں کا دُکھ
خدا کرے مجھے نیند اتنی کمال آئے
كے دِل تیرا خیال بھول جائے
نیند سوتی ہے میرے بستر پر
میں ٹہلتا ہوں رات بھر
خدا کرے مجھے نیند اتنی کمال آئے
كے دِل تیرا خیال بھول جائے
نیندوں کی بغاوت سے
یہ نقصان ہُوا اے دوست !
اک شخص كے خواب کو ترستی رہی آنکھیں
پیار محبت اس دور کی بات ہے فراز
جب مکان کچے اور لوگ سچے ہوا کرتے تھے۔
Tags
Love Quotes









